ابنا: اسلامی تعاون کونسل (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوگلو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پالیسیاں اس وقت فلسطینی اقتصادی ترقی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہیں اور فلسطین کے طویل مدتی معاشی اہداف کی حصول میں رکاوٹ ہیں۔ صہیونی پالیسی کی وجہ سے فلسطینی اداروں کی تعمیر اور ان کی استعداد میں اضافے اور امن، استحکام اور ترقی کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔سیکرٹری جنرل نے منگل کے روز اسلامک فائننس سکیورٹی نیٹ ورک برائے فلسطینی مدد کے عنوان سے منعقد ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے کسٹم وصولیاں اورٹیکس روک لیے ہیں جس سے فلسطینی حکومت کی مالی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں خدمات کی فراہمی کا شعبہ شدید متاثر ہوا ہے۔فلسطینی حکومت کو درپیش مالی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے اکمل الدین احسان اوگلو نے اوآئی سی کے اراکین ممالک سے فلسطین کی مدد کے لیے اسلامک فائننس سیفٹی نیٹ ورک قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے کہا کہ آج کی یہ کانفرنس بھی مشترکہ اسلامی فریم ورک کے اندر مجموعی خودمختاری کی حقیقی روح کی نمائندگی کر رہی ہے۔انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک کی جانب سے فلسطینی کی مدد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قوم کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اقتصادی اور مالی امداد سے اس ملک کو جاری اخراجات کے لیے فنڈز ملیں گے، ترقی کی جانب سفر کو تحفظ اور سیاسی استحکام نصیب ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو دگرگوں کو معاشی حالات سے نکلنے کا موقع بھی مل جائے گا۔او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک، فنڈز اور اسلامی دنیا کے تمام مالیاتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ القدس الشریف کی بحالی اور ترقی کے اسٹریٹجک منصوبے کے لیے زیادہ سے زیادہ مالی تعاون کریں، یہ منصوبہ بارہ شعبہ ہائے زندگی کے حوالے سے ہے جس کی لاگت 499.16 ملین ڈالرز ہے۔ یہ منصوبہ فروری کے مہینے قاھرہ میں ہونے والی اسلامک سمٹ کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔...../169
15 جون 2013 - 19:30
News ID: 430299
اسلامی تعاون کونسل (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوگلو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پالیسیاں اس وقت فلسطینی اقتصادی ترقی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہیں اور فلسطین کے طویل مدتی معاشی اہداف کی حصول میں رکاوٹ ہیں۔ صہیونی پالیسی کی وجہ سے فلسطینی اداروں کی تعمیر اور ان کی استعداد میں اضافے اور امن، استحکام اور ترقی کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔